اٹاوہ،23دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)خاندانی تنازعات کی وجہ سے سماجوادی پارٹی(ایس پی) سے علیحدہ ہوکر شیوپال سنگھ یادو بھلے ہی پرگتی شیل سماجوادی پارٹی لوہیا(پی ایس پی) کی تشکیل کرچکے ہوں لیکن ان کے اندرونی تکلیف شعر کی شکل میں بالآخرزباں پر آہی گئی۔کسانوں کے مسیحا سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی جینتی پر اتوار کو منعقد ایک تقریب میں شیوپال نے اپنے خطاب کی ابتدا ایک نظم پڑھ کرکی’’کیسے پڑھا کیسے چلا کیا کیا کیا کسیے کیا یہ سب کو پتہ ہے، کسی سے کیا کہوں ،میں ہوکر بڑا شہر میں چلا اور ایسے ڈھلا ویسے ڈھلا، دور تھا کالا گھنا میں تب بھی نہ ڈرا دھوپ میں برسات میں کالی رات میں سنگ سنگ چلا دشمن سے لڑا ہوں، آج بھی سنگ کھڑا اب اور کیا کروں میں وہ منظر یاد ہے کچلا بھی گیا روندا بھی گیا کیا اپرادھ تھا کہ میں انکے ساتھ کھڑا اور کیا کیا سہوں میں کیاچپ رہوں‘‘پی ایس پی سربراہ نے کہا کہ چودھری چرن سنگھ ملک کے ماہر معاشیات تھے۔انہوں نے آزادی کی لڑائی کے لیے جدوجہد بھی کی،وہ جیل بھی گئے۔